جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 19:10
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رضا و غضب عینِ رضائے الٰہی و غضبِ الٰہی ہے، مولانا سید علی سجیر رضوی

حوزہ/ خطیبِ جمعہ شیعہ عیدگاہ حسین آباد جپلا، جھارکھنڈ مولانا سید علی سجیر رضوی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت و عظمت اور تسبیحِ زہراؑ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی رضا و ناراضگی رضائے الٰہی اور غضبِ الٰہی کا معیار ہے، جبکہ تسبیحِ فاطمہؑ بہترین عبادات میں سے ہے اور بے شمار روحانی برکات کی حامل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جپلا-جھارکھنڈ/ شیعہ عیدگاہ، حسین آباد (جپلا، جھارکھنڈ) میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ جمعہ مولانا سید علی سجیر رضوی نے مومنین و مسلمین کی دینی تربیت، اصلاحِ اخلاق اور معرفتِ الٰہی پر جامع روشنی ڈالی۔ آپ نے اسی سلسلے میں خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طہارت و عصمت اور آپؑ کی عطاکردہ نورانی تسبیح کی جلیل القدر فضیلت کو انتہائی بلیغ انداز میں بیان کیا۔

حدیثِ مبارکہ إِنَّ اللهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَيَرْضَى لِرِضَاك کو اپنے خطاب کا محور سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس مشہور، متواتر اور عظمتِ زہراؑ پر دلالت کرنے والی حدیثِ مبارکہ کو بنایا، جس میں آپؐ نے اپنی لختِ جگر سے ارشاد فرمایا: "إِنَّ اللهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَيَرْضَى لِرِضَاكِ"

(اے فاطمہ! بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضبناک ہونے پر غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضا و خوشنودی پر راضی ہوتا ہے)

شیعہ کتبِ احادیث (مثلًا بحار الانوار وغیرہ) کے ساتھ ساتھ اہم سنی کتب (مثلاً المستدرک علی الصحیحین از حاکم نیشاپوری) کے معتبر حوالہ جات کا احاطہ کرتے ہوئے اس حدیثِ مبارکہ کے درج ذیل بنیادی نکات کو بیان کیا۔

عصمتِ مطلقہ کا بین ثبوت: معصوم کا غضب یا رضا کسی ذاتی یا نفسانی خواہش کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ حضرت فاطمہ زہراؑ کی رضا عینِ رضائے الٰہی اور آپؑ کا غضب عینِ غضبِ الٰہی ہونا اس بات کی روشن سند ہے کہ آپؑ ہر قسم کے گناہ، لغزش اور خطاؤں سے پاک و منزہ (معصومہ) ہیں۔

حق و باطل کا عالمی معیار: کائنات میں حق اور باطل کی تمیز کا حقیقی ترازو ذاتِ فاطمہؑ ہے۔ جس عمل، کردار یا شخص سے سیدہؑ راضی ہیں، اس سے خدا و رسول راضی ہیں اور جس سے زہراؑ ناراض ہیں، وہ بارگاہِ الٰہی سے مردود ہے۔

محورِ ولایت و امامت: سیدہ کونینؑ محض نبیِ کریمؐ کی بیٹی ہی نہیں بلکہ امامت و ولایت کا مرکز و محور ہیں۔ آپؑ کی حقیقی معرفت کے بغیر ایمان اور اطاعت کا سفر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔

تسبیحِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت و برکات

خطبہ کے دوران مولانا سید علی سجیر رضوی نے شیعہ کتبِ احادیث کی روشنی میں "تسبیحِ فاطمہؑ" کے دنیوی و اخروی فوائد پر روشنی ڈالی۔

تسبیح کی شرعی ہیئت اور ترتیب

۳۴ مرتبہ: "اللهُ أَكْبَرُ"

۳۳ مرتبہ: "الْحَمْدُ لِلَّهِ"

۳۳ مرتبہ: "سُبْحَانَ اللهِ"

روایاتِ معصومینؑ کی روشنی میں جلیل القدر فضائل سید الانبیاءؐ کا گراں قدر تحفہ: روایات کے مطابق اپنی بیٹی کو تسبیح عطا فرمائی اور اسے تمام کائنات کی دولت سے زیادہ قیمتی قرار دیا۔

نیز بیان کیاکہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہےکہ"ہر واجب نماز کے بعد تسبیحِ فاطمہؑ کا پڑھنا میرے نزدیک روزانہ ایک ہزار رکعت مستحب نماز ادا کرنے سے زیادہ محبوب ہے"۔

شیاطین کا دفعیہ اور گناہوں کی مغفرت: امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص نماز کے فوراً بعد (حالتِ نماز ہی میں) تسبیحِ زہراؑ کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا، شیطان اس سے دور بھاگے گا اور یہ ذکر قیامت کے دن میزانِ اعمال میں سب سے زیادہ وزنی ہوگا۔

مولانا موصوف نے خطبے کے آخر میں بارگاہِ الٰہی میں خصوصی دعا کی کہ پروردگار عالم دنیا بھر کے ظالمین کو نیست و نابود فرمائے اور دنیا کے تمام مظلومین کو جلد از جلد امن، عافیت اور سلامتی سے سرفراز فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha